1
F A Mannan Omnis dolor repellendus Olimpedit quo minus Itaque earum rerum
Showing posts with label The Story of Stone Urdu. Show all posts
Showing posts with label The Story of Stone Urdu. Show all posts

Wednesday, May 15, 2013


فیروزہ ایک مقبول عام پتھر ہے اور تمام جوہریوں کے ہاں پایا جاتا ہے یہ بہت سے زیورات اور انگوٹھیوں میں استمال کیا جاتا ہے عام طور پر ہیروں کی دنیا میں یہ دوسرے نمبر کے جواہرات میں شمار کیا جاتا ہے اس کا مزہ پھیکا ہوتا ہے اس پتھر کا مزاج سرد اور خشک ہوتا ہے اس جوہر پارے کا رنگ سبز ہوتا ہے کبھی گہرا اور کبھی ہلکا پایا جاتا ہے یہ پتھر نیلے رنگ میں بھی پایا جاتا ہے
  1. اس پتھر کو اردو اور فارسی میں فیروزہ کہتے ہیں
  2. سنسکرت میں فیروزے کو پراج کہا جاتا ہے
  3. انگریزی میں اس نگینے کوکٹرکیز کہتے ہیں

فیروزے کی خصوصیات اس پتھر پر تیزاب اثر نہیں کرتا
  1. یہ پتھر آگ میں پگھلتا نہیں ہے  ہاں جلانے سے رنگ بدل جاتا ہے
  2. فیروزے سے انسان کو فائدے زیادہ اور نقصان کم ہوتے ہیں
  3. اس میں انسان کے لئے فائدے زیادہ اور نقصان کم ہوتے ہیں
  4. فیروزے کے کیمیائی اجزا ایلومونیم تانبا لوہا اور فاسفورس
  5. سلیمانی فیروزہ اندیشی افیروزہ ظہاری فیروزہ فاتحی

  1. فیروزے کے انسان پر کیا اثرات ہوتے ہیں ہم آپ کو بتاتے ہیں
  2. فیروزہ دشمن کو مغلوب کرتا ہے
  3. فیروزہ خوف اور ڈر سے انسان کو بچاتا ہے
  4. فیروزہ لوگوں میں محبّت اور ملنساری پیدا کرتا  ہے
  5. سانپ اور بچھو فیروزے کو دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں
  6. انسان کو غرقابی بجلی کے شاک اور قتل ہونے سے بچاتا ہے
  7.  فیروزہ مفلسی اور محتاجی کو ختم  کرکے خوشحالی لاتا ہے
  8. فیروزہ کسی حادثے یا مصیبت میں الارم کا کام دیتا ہے اور قبل از وقت چٹخ جاتا ہے ایسا پتھر نہیں پہنا چاہیے ورنہ نحوست کا اثر ہوجاتا ہے
  9. فیروزے کی وجہ سے بگڑے ہوے کام بن جاتے ہیں
  10. فیروزہ انسان کو بد نظر سے بچاتا ہے

فیروزے سے صحت اور تندرستی بھی حاصل ہوتی ہے

  1. فیروزہ دل اور دوسری بیماریوں کو دور کرتا ہے
  2. سانپ اور بچھو کے زہر کا تریاق ہے
  3. دل اور دماغ کو طاقت دیتا ہے
  4. فیروزہ کے استمال سے اسہال کا مرض جاتا رہتا ہے
  5. گردے اور مثانے کی پتھری کو خارج کرتا ہے




  1. فیروزہ عورتوں کے امراض رحم میں بے حد مفید ہے
  2. فیروزہ ذیابطیس کا بہترین علاج ہے
  3. فیروزہ آنکھوں کی جملہ بیماریوں میں اکسیر ہے
  4. فیروزے کا تعلق سیارہ مشتری سے ہے اس نسبت سے اس پتھر کے برج قوس اور حوت ہیں

جن لوگوں کا نام یو پھے پھی پھا دی د دو چھا سے شروع  ہوتا ہے ان کو راس آتا ہے

فیروزہ پتھر کے لئے خوش قسمتی کا عدد تین ہے
جو لوگ پیدائش کے اعتبار سے عدد تین حاصل کرتے ہیں انہیں بھی فیروزہ راس آتا ہے
یہ مقبول پتھر پاکستان ایران چین اور صحرائے سینا اور روس بھی پایا جاتا ہے
















Monday, May 13, 2013


                             پتھر کی کہانی     

پتھر کی کہانی انسان سے زیادہ پرانی ہے قران پاک میں اس کائنات کا اور انسان کی تخلیق کا ذکر آیا ہے الله پاک نے بعض
روایات کے مطابق سات آسمان اور سات زمیں پیدا کی ہیں لوح اور قلم بنائے ہیں اور یہ سب کچھ سات دن میں ہوا ہے کہا جاتا ہے کہ اسی لئے انسان کی حیات میں سات کا عدد بڑی اہمیت رکھتا ہے  شاید اسی لئے دنوں کہ شمار میں پہلا ہفتہ بھی سات دن کہ ہوتا ہے تخلیق کائنات کے بعد الله  کے نور کی قوت ظہور نے آدم کو تخلیق کیا آدم کو مٹی سے بنایا گیا اور ان کو جنت میں رکھا گیا جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہ سلام نے الله کا گھر خانہ کعبہ تعمیر کیا تو الله  نے اپنے اس عظیم گھر کی خوبصورتی میں اضافہ اس طرح سے کر دیاکہ اس گھر کے لئے جنت سے ایک پاک اور خاص پتھر بھیجا جو خانہ کعبہ میں نصب کیا گیاجسے آج بھی کڑوں انسان نہایت ہی عقیدت سے حج کے موقع پر بوسہ دیتے ہیں اس پتھر کو اسود کہتے ہیں
جس کے بارے میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق قول ہے کہ اے پتھر میں اگرچہ تجھے ایک پتھر سمجھتا ہوں مگر صرف الله کا حکم  پورا کرتا ہوں اور تجھ کو بوسہ دیتا ہوں ان دونو باتوں سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کے پتھر کہ جنم انسان سے پہلے ہوا ہے اور اس پتھر کہ احترام صرف اس لئے واجب ہوا کے اس کو سنگ اسود کہ نام دیا گیا  اور خدا کے گھر میں اسے نصب کیا گیا کیوں کے حضرت آدم جنت میں رہے جہاں سنگ اسود 


بھی تھا اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان اور پتھر کی رفاقت سمادی اور آفاقی درجہ رکھتی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کے آج کروڑوں انسان بلکل اسی طرح جیسے صدیوں پہلے دور جہالت میں ہوتا تھا اس وقت بھی پتھر کو دیوتا بنا کر پوج رہے ہیں پتھر نے ہر دور میں انسان کا ساتھ دیا ہے اور اس زمین کی مٹی سے پتھر کا گہرا تعلق ہے اور کیوں کے انسان کو مٹی سے بنایا گیا ہے اس طرح پتھر اور انسان کا رشتہ بہت قریبی ہے


مگر یہ تعلق اس وقت بڑی اہمیت اختیار کر گیا جب انسان نے شعور کی منزل میں پہلا قدم رکھا اور پتھر کی اہمیت کے پیش نظر اس کی رفاقت کو تسلیم کیا یہ وہی دور تھا جسے آج بھی دنیا پتھر کے دور سے جانتی ہے رفتہ رفتہ انسان شعور کی منزلیں طے کرتا رہا اور یقیناً وہ دن بڑا ہی عجیب رہا ہوگا جب آدمی نے پہلی بار کسی چمک دار پتھر کو دیکھا ہوگا اور اس کی چمک سے متاثر ہوا ہوگا ماضی بعید  کے اس زمانے کو ہم صرف چشم تصور سے ہی دیکھ سکتے ہیں یہ پتھر سے انسان کی محبت ہی تو تھی کہ انسان نے چمکدار پتھروں کو زندگی میں ایک خاص مقام عطا کر دیا اور اسے ہیرے اور موتی کہ درجہ دے کر اس کی قدر اور قیمت  میں یہاں تک اضافہ کر دیا کہ ایسا پتھر ایک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگیا پھر یہ پتھر صرف بادشاہ اور مالدار لوگوں تک محدود ہو گئے ماضی قریب میں مسلمان بادشاہوں نے ہیروں کو تاج سلطانی میں شامل کر کے ان کی قدر اور قیمت میں مزید اضافہ کر دیا اور ہم میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ مغل بادشاہ جہانگیر کے تاج میں وہ عظیم پتھر یا ہیرا موجود تھا جسے دنیا کوہ نور ہیرے کے نام یاد کرتی ہے یہ ہیرا آخری مغل بادشاہ  بہادر شاہ ظفر تک ہندوستان میں رہا بعد میں انگریزی فاتحین نے کوہ نور ہیرا تاج سے الگ کرنے کی کوشش میں توڑ دیا اس ہیرے کا ٹوٹا ہوا ایک حصہ ملکہ برطانیہ کے تاج میں لگایا گیا تھا یہ تاریخی اور یادگار پتھر کوہ نور آج بھی لندن کے میوزیم میں دیکھا جاسکتا ہے اس چیز کو دوسری ضروریات میں بھی خاص مقام دیاپتھر سے انسان کو محض عقیدت و محبت ہی نہیں رہی بلکہ انسان نے  ہے ساجد مندر گرجے اور دوسرے معبودوں کے علاوہ تاریخی عمارات اورم مزاروں کی تعمیر میں بھی ایک اہم رول ادا کیا ہےمثال کے طور پر گھروں کی تعمیر قلعہ جات  تاج محل ایک تاریخی عمارت ہے اور دنیا کے سات  عجوبہ میں سے ایک عمارت ہے اور یہ عجوبہ بھی انسان نے پتھر کی مدد سے ہی انسان نے پیش کیا ہے  خوب سے خوب تر کی تلاش میں اپنا سفر جاری رکھا پتھر کے دور سے ہی انسان کی کھوجی فطرت نے  آدمی نے فطرت کے اس کارخانے کو ابتدا یقیناً میں بہت حیرت سے دیکھا ہوگا مگر پھر یہ ہی حیرت انسان کے لئے دریافت کا ذریعہ بن گئی اور انسان نے تلاش جیسی اہم حقیقت کو پالیا حصول دراصل تلاش کا ہی مرہون منت ہوتا ہے تلاش کا یہ سفر صدیوں بلکہ ہزاروں سال پرانا ہے آدمی اگرچہ 
کائنات کا جز ہے بظاہر ایک چھوٹا جز معلوم ہوتا ہے مگر یہ اس کی تلاش کا جذبہ اور محنت کا نتیجہ ہےکہ انسان نے دھرتی
کا سینہ چیر دیا  اور اس کے بہت سے رازوں کو بے نقاب کر دیا   ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے یہ ایک محاورہ ہے اور اس کا اطلاق انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے حقیقت یہ ہے کہ جوں جوں انسانیت کی عمر میں اضافہ ہوا ہے 
اور انسان نے اپنی تلاش کے سفر کو تیز کیا ہے اسی اعتبار سے دریافت نے بھی اپنے دامن کو کھول دیا اور دریافت کے خلوص کا مظہر یہ ہے کہ انسان نت نئے رازوں کو پاچکا ہے یہ انسان کی تلاش کا نتیجہ ہے کہ آدمی نے بے کار پتھروں میں سے چمکدار پتھر دریافت کر لئے اور ان پتھروں کے مختلف نام رکھ دیے انسان اپنی محنت اور جستجو کے بے لگام گھوڑے پر سوار ہو کر ساری دنیا حاصل کرنا چاہتا ہے اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ طلب کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ رسد تو طلب میں مزید اضافہ کر دیتی ہے انسان اس بچے کی مانند رہا ہے جو ایک کھلونے پر کبھی قناعت نہیں کرتا وہ تو ایک کھلونا حاصل کر لیتا ہے تو کچھ دیر بعد اس کھیل کر انسان کہ جی بھر جاتا ہے اور خوب سے خوب تر کی تلاش لگ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے دنیا میں ہر زمانے میں دریافت کا سلسلہ جاری رہا انسان دنیا میں ہر چیز کو نفع اور نقصان کی کسوٹی پر رکھ کر پرکھتا رہا پھر جو چیز مفید ہوتی ہے اس کو اپنا لیتا ہے اور جو نقصاندہ ہوتی ہیں ان سے ہر ممکن طور پر بچنے کوشش کرتا ہے یہ بات انسان کی نیچر میں شامل ہے اس لئے ہم قاعدے نیچرل یا فطری طریقہ کہہ سکتے ہیں یہ بات انسان کی نیچر میں شامل ہے اس لئے ہم اس قاعدے کو فطری طریقہ کہہ سکتے ہیں پتھر کی دریافت کے بعد یقیناً ابتدائی زمانے کو انسان تھے انہونے اپنی فطرت کے مطابق چمکدار پتھر کو ضرور پرکھا ہوگا اسی لئے شاید ہیرے جواہرات کا ایک ابتدائی تصور انسان کے ذہن میں آیا ہوگا اس دور کے آدمی نے پتھر کی چمک دمک کو ہی اس کی قدر جانا ہوگا اور یہ حقیقت ہے کے وہ پتھر جو
چراغ کی طرح روشن نظر آے اس پتھر کو شب چراغ کہتے ہیں اور جو لوگ ان پتھروں کو بادشاہوں کے دربار پیش کرتے  
 وہ انعام کے حقدار بن جاتے تھے بادشاہ ان کو خوب انعام سے نوازا کرتے تھے اس طرح جیسے دریافت کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا پھر انسان نے یہ طے کیا ہوگا جس طرح دوسری چیزوں کے خواص ہوتے ہیں بلکل اسی طرح پتھروں کے بھی کچھ خواص ہونگے اب ہم کو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کے اس دور کا انسان پتھر کی چمک دمک اور اس کے حجم سے متاثر ہوا ہوگا  اور پھر رفتہ رفتہ انسانی شعور نے اس کے ادراک کے دروازے پر دستک دی اور آدمی اس راہ میں چند قدم اور آگے بڑھا اور پھر رفتہ رفتہ انسانی شعور نے اس کے ادراک کے دروازے پر دستک دی اور آدمی اس راہ میں چند قدم اور آگے بڑھا اور اپنی فطرت کے مطابق اس نے تلاش جاری رکھی اور ان باتوں کا پتا چلایا کہ چمکدار پتھروں کے اثرات کیا ہوتے ہیں اور اس  کا پتا چلایا کے ان پتھروں کے وہ کون سے خواص ہیں جوانسان کے کام آسکتے ہیں اور کن پتھروں سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور صدیوں بلکہ ہزاروں سال کی تلاش کے بعد انسان کی دریافت آج اس مقام پر کھڑی ہے  اور کن پتھروں سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور صدیوں بلکہ ہزاروں سال کی تلاش کے بعد انسان کی دریافت آج اس مقام پر کھڑی ہے  جہاں کچھ پتھروں کی حقیقت آشکار ہو چکی ہے اگرچہ اس بات کو ابھی جزوی درجہ دیا جاسکتا ہے ممکن ہے ہمارے انسان اس سفر میں آگے جاکر اس سے کہیں زیادہ ان پتھروں کے مطلق جان سکیں اور ان کی دریافت حیرت ناک بھی ہوسکتی ہے  آج ہم یا ہمارے دور کا آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا جیسے 

لوگ کہتے ہیں کسی کو کہ یہ پتھر دل ہے اس کے جگر میں درد نہیں ہوتا جی ہاں یہ بات بلکل سچ ہے کہ پتھر کے جگر میں درد نہیں ہوتا مگر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس کے جگر میں ہیرا ہوتا ہے چمک ہوتی ہے اور ہیرا بھی وہ جو آئینے کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے  پتھر کی تلاش کہ سلسلہ جاری ہے اور اس کے ساتھ ہی ان پتھروں اصلیت اور اہمیت اور اس کے خواص پر انسان کی ریسرچ آگے بڑھ  رہی ہے  اور حوالوں کو سامنے رکھا ہے ہم نے اپنے پڑھنے والوں کے لئے جدید ترین سائنسی دریافت  ماہر ارضیات کی آرا کو بھی پیش نظر رکھا ہے اور اس کام کو پورا کرنے کے لئے ہم نے اور متوسط زمانے سے لیکر آج کے اس ماڈرن سائنس کے زمانے تک اس دریافت کا دامن بہت بڑا کر دیا اس لئے ہم نے غیر ملکی ماہرین سے بھی استفادہ کیا ہے حاصل کرنے کے لئے چہرے اور عقیدے درمیان میں نہیں آیاارو علم و فن چونکہ کسی کی  میراث  نہیں ہوتے اسی طرح علم  کرتے آئیے اب ہم یہ دیکھیں کہ پتھر کے خواص کیا ہوتے ہیں دراصل یہ بات صرف ایک سطر میں کہدی گئی ہے مگر یہ بات اتنی آسان نہیں ہے کہاس کا خلاصہ بھی چند سطروں میں پیش کر دیا جائے اس کے لئے کافی محنت علم  اور معلومات کی ضرورت  ہے ہم نے  پر اثرات زمین سے ان کا تعلق کوشش کی ہے کہ پتھروں کے خواص اور ان کے انسانی زندگی کائنات افلاک سے ان کا واسطہ سیاروں سے ان کی نسبت کیا ہے انسان کی وابستگی کے اعتبار سے پتھر کے خواص کس طرح انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں
اس بات کو آسانی سے سمجھانے کے لئے اس جامع قسم کے سوال کو چند خاص حصوں میں بیان کرنا ہوگا  کی اس ضمن میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ کہانی ہم نے کسی غیر ملکی کتاب کا ترجمہ  کر کے پیش نہیں بلکہ ہم نے زیرنظر کہانی میں برصغیر پاک وہند کے عظیم ماہرین ارضیات اور جوہر شناس حضرات  ہماری نگاہ میں جو دھرتی اور جو پہاڑ ہیں
کو بے حد اہمیت اور اولیت دی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے جواہرات اور پتھر کے زیورات ہمارے علاقے اور ہماری سوسایٹی میں ہیں اور جو جواہر ہم نے دیکھے ہیں یا جو ہیرے  ہیں  وہ کہیں اور نہیں ملے گے  جو ہیرے اور جواہرات اور پتھر کے زیورات ہمارے علاقے اور ہماری سوسایٹی میں ملیں گے وہ آپ کو کسی اور جگہ نہیں ملیں گے ان کی اپنی ایک نوعیت اور افادیت ہے اور یہ افادیت غیر ملکی ماہرین کی نگاہ کسی بھی مقام پر ہو لیکن ہماری نگاہ میں ان کی  قدر اور قیمت ساری دنیا سے زیادہ ہے ہم اس بات کو یہیں ختم کر کے اب اصل موضوع پے آتے ہیں اور اب  پتھروں کے خواص کو سامنے

  رکھ کر بات کرتے ہیں اس کو جانے کے لئے آپ کو ہمارا اگلا پیچ پڑھنا ہوگا جو بہت جلد آپ کی نگاہ کے سامنے ہوگا 









Ammir Mannan. Powered by Blogger.

Followers

About Us

Spice Mag - Premium free blogger template developed by spicytricks.com.

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Maecenas hendrerit iaculis nunc. Curabitur in eros ipsum. Pellentesque habitant morbi tristique senectus et netus et malesuada fames ac turpis egestas. Duis at mi justo, non suscipit elit. Nunc aliquam luctus adipiscing. Nullam sit amet lacus vitae odio congue mollis eu non magna. Duis sed arcu a libero adipiscing rhoncus. Aliquam erat volutpat. Suspendisse sed nunc metus, sed aliquet arcu.